حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ عبداللہ جوادی آملی نے کہا ہے کہ ایرانی قوم نے کبھی کسی پر جنگ مسلط نہیں کی، لیکن اگر کوئی دشمن حملہ کرے تو اسے ہرگز معاف نہیں کرتی۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کا جذبۂ ایثار اور عاشورائی ثقافت ہی ملک کی طاقت اور استحکام کا اصل سرمایہ ہے۔
انہوں نے آمل کے 398 شہید فوجیوں کی یاد میں منعقدہ تقریب کے نام ویڈیو پیغام میں بالخصوص شہید امیر سرلشکر سید مسعود منفرد نیاکی کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں ایک باکردار، آزاد فکر اور عوامی شخصیت قرار دیا، جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس قوم نے کبھی کسی پر جارحیت نہیں کی، تاہم جب بھی دشمن نے حملہ کیا، عوام نے پوری قوت سے اس کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے آمل کے عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1981ء میں دشمن کے حملے کے دوران اہلِ آمل نے شجاعت کا مظاہرہ کیا اور چالیس شہداء پیش کرکے تاریخ میں ایک روشن باب رقم کیا۔
آیت اللہ جوادی آملی نے سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام ظلم اور جارحیت کا مذہب نہیں بلکہ عزت، شرافت اور انسانی اقدار کا دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جنگ بھی اخلاقی اصولوں کے دائرے میں رہ کر لڑی جاتی ہے اور حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف اور انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاتا۔
انہوں نے انقلاب اور ملک کے دفاع میں عوام کی مسلسل موجودگی کو نصرتِ الٰہی کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرد، خواتین، نوجوان اور بزرگ ہر موقع پر دین اور وطن کے دفاع کے لیے میدان میں اترے، جو خدا کی خاص مدد کی علامت ہے۔
آیت اللہ جوادی آملی نے کہا کہ ایرانی قوم کا واقعہ عاشوراء سے بہت گہرا رشتہ ہے اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے قیام کی روح آج بھی معاشرے میں زندہ ہے۔ انہوں نے حضرت سعید بن عبداللہ حنفیؓ کی وفاداری اور جانثاری کو عاشورا کی دائمی میراث قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی اخلاص آج کروڑوں زائرین کو اربعین حسینی میں یکجا کرتا ہے۔
انہوں نے عوام اور ذمہ داران کی خدمات کو سراہتے ہوئے ملک میں امن، اتحاد اور باہمی احترام کو برقرار رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ اختلافِ رائے ہمیشہ خوش اسلوبی اور دوستانہ ماحول میں پیش کیا جانا چاہیے تاکہ ملک امن و سکون کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر آیت اللہ جوادی آملی اپنے رہبر شہید کے ساتھ ستر سالہ رفاقت کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے طویل عرصے کے رفیق سے جدائی ایک بڑا صدمہ ہے۔ انہوں نے تمام شہداء، بالخصوص رہبر شہید، کے بلند درجات، اور شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے صبر و اجر کی دعا بھی کی۔









آپ کا تبصرہ